لبیک | ممتاز مفتی Novel Short Stories Translation, , . , . . . , , , , , , . . , . , , , .. 306 .. :
اور خود کو اس محفل کا ایک فرد سمجھنے لگتا ہے
اقتباس کتاب:مذہب اور دھرم
184 صفحات
بہرکیف آندرے گرومیکو نے اپنی کتاب Memoriesمیں اسٹالین پر الزامات لگانے میں کسی قسم کا تساہل نہیں برتا لیکن باوجود ایک مخالف کے اس نے اسٹالین کے متعلق جو کچھ تحریر کیا ہے، اس کے مطالعے سے اسٹالین کی شخصیت کے مزیدمثبت پہلو ہی سامنے آتے ہیں جس کی ایک عظیم انقلابی رہنما ہونے کے ناتے ان سے بجا طور پر توقع کی جا سکتی تھی ۔گرومیکو کے بقول ’’ پہلی نظر میں اسٹالین کی شخصیت کا کون سا حصہ سب سے نمایاں نظر آتا تھا ؟ ہر طرح کے حالات میں اس کے متعلق پہلا تاثر یہ ملتا تھا کہ یہ ایک سوچنے والا آدمی ہے ۔میں نے کبھی اسے زیرِ بحث موضوع سے ہٹی ہوئی بات کرتے نہیں سنا ۔اسے تمہیدات،طویل جملے اور لفاظی سے بھرپور تقاریر پسند نہ تھیں۔ اس کے باوجودوہ ایسے افراد سے صبروتحمل برتنے کے فن سے بھی واقف تھا جو تعلیم کی کمی کے باعث اپنے خیالات کو اچھے طریقے سے منظم نہیں کر پاتے ۔۔۔۔۔اسٹالین کی حرکات وسکنات ہمیشہ عجلت کے عنصر سے پاک ہوتی تھیں۔ میں نے کبھی اسے اپنی رفتار بڑھاتے ہوئے نہیں دیکھا ۔اور مجھے تو ایسا لگتا تھا کہ جب وہ کام کر رہا ہوتا تو وقت کی رفتار بھی دھیمی پڑ جاتی تھی ۔۔۔۔۔بولتے وقت اس کا لہجہ دھیما بلکہ کسی قدر گھٹا ہوا سا رہتا تھا ۔بلند آواز میں وہ کم ہی بات کرتا تھا۔اس کے باوجود جب وہ بولتا تو ہر طرف کامل سکوت چھا جاتا، خواہ وہاں کتنے ہی لوگ کیوں نہ موجود ہوں۔اس کی تقاریر کا اسلوب اس کی اپنی ایجاد تھا ۔اس کی سوچ جچے تلے اور غیر روایتی خیالات سے عبارت تھی۔‘‘ (4)
Baraf ki Jheel
readers will find themselves engrossed in the powerful phenomenon of love that knows no boundaries - whether it be found in the slums
اس لیے اس کی ترقی کا انحصار صرف محنت و کاوش اور رہبری عقل پر ہے۔
خورشید کمال قرآن کے علاوہ حضرت علی کے خطبات پر مشتمل کتاب 'نہج البلاغہ' کا بھی منظوم پنجابی ترجمہ بھی کر چکے ہیں
نیوٹن نے کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران یہ ثابت کر کے پوری یونیورسٹی میں کھلبلی مچا دی تھی کے سفید روشنی دراصل قوس قزح کے تمام رنگوں کے ملاپ سے بنتی ہے۔ پروفیسر ڈھانا نے اس کتاب کے دوسرے حصے میں نیوٹن کی کتاب "principia" کا مقدمہ اور اوپر بیان کردہ اصولوں اور عنصروں کو رایل سوسائٹی آف سائنس میں نہایت ہی دلچسپ اور مکالماتی انداز میں پیش کیا ہے
اردو زبان و ادب میں مختلف تحریکات و رجحانات کے زیر اثرمثبت او رمنفی تبدیلیاں ہوتی رہی،جس میں حلقہ ارباب ذوق،ترقی پسند تحریک ،جدیدیت ،مابعد جدیدیت کے اثرات ادب پر زیادہ رہے۔ان تحریکات و رجحانات نے مختلف ادوار میں قلمکاروں کو اپنی جانب متوجہ کیا،جس سے متاثر ہوکر ادب تخلیق کیا گیا۔جدیدذہانت کے حامل تخلیق کاروں نے جدیدیت کا آغاز کرتے ہوئے، جدید ادب تخلیق کیا ۔پیش نظر اسی ادب کا مطالعہ ہے۔کتاب کے موضوع سے متعلق مصنف دیویندرسرا رقمطراز ہیں۔"یہ کتاب جدید تہذیب اور اس سے پروردہ نئے ذہن کے دائرے میں ہم عصر اد ب کا مطالعہ ہے۔ظاہر ہے کیلنڈر کی کسی تاریخ سے جدید ذہن کے یوم پیدائش کی نشاندہی نہیں کی جاسکتی۔جدید ذہن سے مراد وہ ذہنی اور سماجی فضا ہے جو دوسری جنگ عظیم کے دوران اور اس کے بعد پید اہوئی اور جس نے ادب اور اقدار کو گہرے بحران میں لا پھینکا ہے۔"مصنف نے جدید ادب سے متعلق مختلف موضوعات پر مبنی مضامین کو یکجا کرتے ہوئے ،جدیدیت کی تعریف ،تشریح اورجدید نظریات کی وضاحت کی ہے۔
Particularly In The Political Economy Of Casas Afghanistan
مصنف محمد ظفر الحق چشتی